ڈیجیٹل تنہائی رضا ابرار ندوی

کمرے کی کھڑکی کے باہر شام اتر رہی تھی۔ پرندے جھنڈ کی صورت میں اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آسمان پر سنہری روشنی کا جادو بکھرا ہوا تھا۔ فضا میں ایک مانوس سکون رچا ہوا تھا، مگر علی کے کمرے میں اس سکون کا گزر تک نہ تھا۔ وہ کرسی پر جھکا ہوا، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کی راتوں کی بیداری کی گواہی دے رہے تھے۔ اسکرین کی سفاک روشنی میں اس کے چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ اسی وقت دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماں آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔ ماں (مسکرا کر): "بیٹا، میں نے چائے بنائی ہے، آ کے میرے ساتھ پی لو۔ دن بھر پڑھتے رہتے ہو، تھک گئے ہو گے۔" علی نے آنکھیں اسکرین سے ہٹائے بغیر کہا: علی (بے صبری سے): "ماں پلیز! یہ ایک ضروری آن لائن میٹنگ ہے۔ آپ رکھ دیجیے، میں بعد میں پی لوں گا۔ ماں نے چند لمحے بیٹے کے چہرے کو دیکھا، پھر آہستگی سے کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلی گئیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک اداسی تیر رہی تھی، مگر علی کی نظریں اب بھی اسکرین سے جمی رہیں۔ دن گزرتے گئے۔ علی کے "آن لائن" دوست بڑھتے گئے، گروپ چیٹس میں قہقہے گونجتے رہے، ویڈیو کالز پر مسکراہٹیں بکھرتی رہیں، اور سوشل میڈیا پر لائکس کے سمندر بہتے رہے۔ لیکن گھر کے کونے دن بہ دن سنسان ہوتے گئے۔ ایک شام ماں نے پھر ہمت کی۔ کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے علی کو پکارا: ماں: "بیٹا، ادھر آؤ۔ ذرا میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ دل گھبرا رہا ہے۔ علی نے جھنجھلا کر کہا: علی: "ماں، آپ کو ہر وقت گھبراہٹ رہتی ہے۔ میں مصروف ہوں، آپ سمجھتی کیوں نہیں؟ ماں خاموش ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہ پرندوں کو گھونسلوں کی طرف لوٹتے دیکھتی رہیں اور سوچتی رہیں: "کاش میرا بیٹا بھی ایک دن میرے پاس لوٹ آئے… وقت گزرتا گیا۔ ماں کی مسکراہٹ مدھم ہوتی گئی۔ پھر ایک دن وہ سخت بیمار پڑ گئیں۔ علی گھبرا کر انہیں اسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد سنجیدگی سے کہا: ڈاکٹر: "انہیں دوا کے ساتھ ساتھ پیار اور توجہ کی سخت ضرورت ہے۔ بیٹے کا ساتھ ان کے لیے دوا سے زیادہ کارگر ہوگا۔" علی نے سر ہلایا: علی: "جی ڈاکٹر صاحب، بالکل۔" مگر حقیقت یہ تھی کہ اسپتال کے کمرے میں بھی اس کی انگلیاں موبائل پر مصروف تھیں۔ ماں کے ہاتھ تھامنے کے بجائے وہ نوٹیفیکیشن گن رہا تھا۔ ایک دن ماں نے کمزور آواز میں کہا: ماں: "بیٹا…" علی نے فون سے نظریں ہٹائے بغیر کہا: علی: "جی ماں، بولیے۔" ماں نے آہ بھرتے ہوئے کہا: ماں: "ہم بھی کبھی تمہارے نوٹیفیکیشن بن پائیں گے؟ کبھی ایسا وقت آئے گا کہ تمہارا دل ہمارے لیے بجے گا؟" یہ سوال ہوا میں تیرتا رہا۔ علی نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا مگر پھر بھی کچھ نہ بولا۔ اس نے فون کی اسکرین پر دوبارہ نظریں جما دیں۔ چند دن بعد ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ کمرہ خالی ہو گیا۔ مگر اس خالی کمرے کی گونج علی کی زندگی کا سب سے بڑا شور بن گئی۔ چیزیں سمیٹتے ہوئے اسے ایک پرانی ڈائری ملی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے ورق پلٹا۔ ایک صفحے پر لکھا تھا: "میرا بیٹا ہزاروں لوگوں سے بات کرتا ہے، مگر میری بات سننے کے لیے وقت نہیں نکالتا۔ کاش وہ جانتا کہ یہ تنہائی صرف میری نہیں، اس کی بھی ہے۔" یہ جملے علی کی روح پر بجلی بن کر گرے۔ اس کے ہاتھ لرزنے لگے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ علی (خود کلامی): "ماں… کاش ایک بار آپ کے ساتھ بیٹھ جاتا… کاش ایک بار آپ کے ساتھ چائے پی لیتا… کاش ایک بار آپ کی بات سن لیتا…" اس دن کے بعد پہلی بار علی نے فون بند کر دیا۔ کھڑکی کے باہر شام اتر رہی تھی۔ پرندے جھنڈ کی صورت میں گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پاس کھڑا انہیں دیکھتا رہا اور سوچتا رہا: علی (آہستگی سے): "میں کب لوٹوں گا اپنے اصل گھونسلے، اپنے اصل رشتوں کی طرف؟" اس لمحے اسکرین کی چمک مدھم ہونے لگی، مگر دل میں ایک نئی روشنی جاگ اٹھی۔ وہ روشنی جو حقیقی لمس اور حقیقی رشتوں کے بغیر کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔

Comments

Popular posts from this blog

چاندی اور کوڑا چننے والی لڑکی۔ رضا ابرار ندوی

ادھوری محبت خاموش لفظوں کی کہانی۔ رضا ابرار ندوی