Posts

Showing posts from May, 2026

ڈیجیٹل تنہائی رضا ابرار ندوی

کمرے کی کھڑکی کے باہر شام اتر رہی تھی۔ پرندے جھنڈ کی صورت میں اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آسمان پر سنہری روشنی کا جادو بکھرا ہوا تھا۔ فضا میں ایک مانوس سکون رچا ہوا تھا، مگر علی کے کمرے میں اس سکون کا گزر تک نہ تھا۔ وہ کرسی پر جھکا ہوا، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کی راتوں کی بیداری کی گواہی دے رہے تھے۔ اسکرین کی سفاک روشنی میں اس کے چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ اسی وقت دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماں آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔ ماں (مسکرا کر): "بیٹا، میں نے چائے بنائی ہے، آ کے میرے ساتھ پی لو۔ دن بھر پڑھتے رہتے ہو، تھک گئے ہو گے۔" علی نے آنکھیں اسکرین سے ہٹائے بغیر کہا: علی (بے صبری سے): "ماں پلیز! یہ ایک ضروری آن لائن میٹنگ ہے۔ آپ رکھ دیجیے، میں بعد میں پی لوں گا۔ ماں نے چند لمحے بیٹے کے چہرے کو دیکھا، پھر آہستگی سے کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلی گئیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک اداسی تیر رہی تھی، مگر علی کی نظریں اب بھی اسکرین سے جمی رہیں۔ دن گزرتے گئے...

ادھوری محبت خاموش لفظوں کی کہانی۔ رضا ابرار ندوی

رات کی خاموشی آہستہ آہستہ شہر پر اتر رہی تھی۔ دور کہیں اذان کی مدھم سی آواز فضا میں گھل رہی تھی، اور ہوا میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ علی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، ہاتھ میں وہی پرانا خط، جس کے کنارے اب مڑ چکے تھے۔ یہ خط صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں تھا… یہ اس کی پوری کہانی تھی۔ وہ آہستہ سے بولا، "عائشہ… تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میں نے تمہیں چھوڑا تھا… اپنی یادوں میں۔" یہ کہانی کئی سال پہلے شروع ہوئی تھی… کالج کا پہلا دن، نئی کتابیں، نئے چہرے، اور نئی امیدیں۔ علی ایک سادہ سا لڑکا تھا، جو اپنے خوابوں میں کھویا رہتا تھا۔ اسے ہجوم پسند نہیں تھا، اس لیے وہ اکثر لائبریری کے کونے میں بیٹھ کر کتابوں میں خود کو چھپا لیتا۔ ایک دن، جب وہ ایک کتاب تلاش کر رہا تھا، اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی۔ سفید دوپٹہ، جھکی ہوئی نظریں، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔ وہ عائشہ تھی۔ علی نے خود سے کہا، "یہ لڑکی… باقی سب سے مختلف کیوں لگتی ہے؟" کچھ دنوں تک وہ صرف دور سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر ایک دن قسمت نے دونوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ "یہ کتاب… آپ لے رہے ہیں؟" عائشہ نے آہستہ سے پوچھا۔...

چاندی اور کوڑا چننے والی لڑکی۔ رضا ابرار ندوی

رات اپنی خاموشی کے عروج پر تھی۔ شہر کی روشن سڑکیں آہستہ آہستہ سنسان ہو رہی تھیں۔ دکانوں کے شٹر گر چکے تھے اور گلیوں میں صرف ہوا کی مدھم سرسراہٹ باقی تھی۔ آسمان پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اُس کی چاندنی زمین پر ایسے بکھر رہی تھی جیسے کسی نے سفید ریشم پھیلا دیا ہو۔ شہر کے کنارے ایک بوسیدہ بستی تھی۔ نالے کے پاس کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، جہاں اکثر رات کے اندھیرے میں چند مجبور سائے زندگی تلاش کرنے آتے تھے۔ انہی سایوں میں ایک لڑکی بھی تھی، ہاتھ میں پرانا سا تھیلا، بدن پر میلی شال، اور آنکھوں میں عجیب سی خاموش روشنی۔ اُس کا نام فریال تھا۔ وہ کوڑے کے ڈھیر میں سے پلاسٹک کی بوتلیں، ٹوٹے ڈبّے اور کاغذ چُن رہی تھی۔ سرد ہوا اُس کے بالوں کو بار بار چہرے پر لا رہی تھی مگر وہ خاموشی سے اپنا کام کیے جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اُس نے اچانک سر اُٹھایا اور چاند کی طرف دیکھنے لگی۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا درد تیرنے لگا۔ وہ دھیرے سے بولی: “چاند… تُو بھی عجیب ہے۔ روز آتا ہے، روشنی بانٹتا ہے، پھر خاموشی سے چلا جاتا ہے۔ میں بھی روز آتی ہوں… مگر کوڑا چُن کر واپس چلی جاتی ہوں۔ فرق صرف اتنا...