چاندی اور کوڑا چننے والی لڑکی۔ رضا ابرار ندوی
رات اپنی خاموشی کے عروج پر تھی۔
شہر کی روشن سڑکیں آہستہ آہستہ سنسان ہو رہی تھیں۔ دکانوں کے شٹر گر چکے تھے اور گلیوں میں صرف ہوا کی مدھم سرسراہٹ باقی تھی۔ آسمان پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اُس کی چاندنی زمین پر ایسے بکھر رہی تھی جیسے کسی نے سفید ریشم پھیلا دیا ہو۔
شہر کے کنارے ایک بوسیدہ بستی تھی۔ نالے کے پاس کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، جہاں اکثر رات کے اندھیرے میں چند مجبور سائے زندگی تلاش کرنے آتے تھے۔ انہی سایوں میں ایک لڑکی بھی تھی، ہاتھ میں پرانا سا تھیلا، بدن پر میلی شال، اور آنکھوں میں عجیب سی خاموش روشنی۔
اُس کا نام فریال تھا۔
وہ کوڑے کے ڈھیر میں سے پلاسٹک کی بوتلیں، ٹوٹے ڈبّے اور کاغذ چُن رہی تھی۔ سرد ہوا اُس کے بالوں کو بار بار چہرے پر لا رہی تھی مگر وہ خاموشی سے اپنا کام کیے جا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اُس نے اچانک سر اُٹھایا اور چاند کی طرف دیکھنے لگی۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا درد تیرنے لگا۔
وہ دھیرے سے بولی:
“چاند… تُو بھی عجیب ہے۔
روز آتا ہے، روشنی بانٹتا ہے، پھر خاموشی سے چلا جاتا ہے۔
میں بھی روز آتی ہوں… مگر کوڑا چُن کر واپس چلی جاتی ہوں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ تُو روشنی بانٹتا ہے، اور میں گندگی اُٹھاتی ہوں۔”
وہ اپنے ہی لفظوں پر ہلکا سا مسکرائی، مگر اُس مسکراہٹ میں تھکن زیادہ تھی، خوشی کم۔
اچانک ایک سیاہ کار آ کر قریب رُکی۔ دروازہ کھلا اور ایک لمبا قد، سنجیدہ چہرہ اور گہری آنکھوں والا شخص باہر نکلا۔ اُس کے کندھے پر کیمرہ لٹک رہا تھا۔
وہ احمر نقوی تھا — شہر کا مشہور مصور اور فوٹوگرافر۔
اُس نے فریال کو کچھ دیر خاموشی سے دیکھا، پھر آہستہ سے بولا:
“اس وقت یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو؟
یہ جگہ محفوظ نہیں۔”
فریال نے بغیر گھبرائے جواب دیا:
“صاحب، یہی وقت تو محفوظ ہے۔
دن میں لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔
رات کو صرف چاند دیکھتا ہے… اور وہ انصاف سے دیکھتا ہے۔”
احمر چونک سا گیا۔
اُسے توقع نہیں تھی کہ کوڑا چُننے والی ایک لڑکی اتنی گہری بات کرے گی۔
وہ قریب آ کر بولا:
“تم چاند سے بات کرتی ہو؟”
فریال نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“ہاں… وہ جواب نہیں دیتا، مگر سنتا ضرور ہے۔
انسان تو بولنے سے پہلے ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔”
احمر کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی۔
“تمہارا نام؟”
“فریال۔”
“بہت خوبصورت نام ہے… جیسے کسی ادھوری نظم کا عنوان۔”
فریال ہنس پڑی، مگر اُس ہنسی میں تلخی شامل تھی۔
“نظمیں غریبوں کے نصیب میں کہاں، صاحب؟
ہمارے حصے میں تو صرف کوڑا آتا ہے… کبھی کبھی سڑے ہوئے خواب بھی۔”
یہ جملہ سن کر احمر کچھ لمحے خاموش رہا۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ غربت صرف جسم کو نہیں، خوابوں کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔
اچانک اُس نے کہا:
“میں تمہاری تصویر بنانا چاہتا ہوں۔”
فریال چونک گئی۔
“میری تصویر؟
آپ مذاق کر رہے ہیں نا؟
میں کون سا چہرہ رکھتی ہوں جو تصویروں کے قابل ہو؟”
احمر نے سنجیدگی سے جواب دیا:
“خوبصورتی صرف چہرے میں نہیں ہوتی۔
میں تمہاری آنکھوں میں حقیقت دیکھ رہا ہوں… اور حقیقت ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہے، چاہے مٹی میں لپٹی ہو۔”
فریال نے کڑوی ہنسی کے ساتھ کہا:
“دنیا غریب کی حقیقت نہیں دیکھتی صاحب۔
اُسے صرف سجے ہوئے چہرے پسند ہیں۔”
“شاید اسی لیے میں تصویریں بناتا ہوں،” احمر بولا،
“تاکہ لوگوں کو یاد دلا سکوں کہ حسن صرف امیروں کے حصے میں نہیں آتا۔”
چاندنی اب مزید گہری ہو چکی تھی۔
ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی۔
احمر نے اپنا کیمرہ سنبھالا اور بولا:
“بس ایسے ہی کھڑی رہو…
نظریں آسمان کی طرف۔
جیسے تم کسی خواب کو دیکھ رہی ہو۔”
فریال نے دھیرے سے سر اُٹھایا۔
چاندنی اُس کے چہرے پر پڑی۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر اُس نمی کے اندر ایک ضدی سی روشنی بھی چھپی ہوئی تھی۔
کیمرا کلک ہوا۔
وہ لمحہ وقت میں جیسے ہمیشہ کے لیے ٹھہر گیا۔
احمر دھیمی آواز میں بولا:
“فریال… تمہارے چہرے پر غم نہیں، ایمان چمک رہا ہے۔”
فریال نے آہ بھری۔
“صاحب… بھوک ایمان کھا جاتی ہے۔
مگر پھر بھی انسان کسی نہ کسی چیز پر یقین کیے رکھتا ہے…
چاہے وہ صرف چاند ہی کیوں نہ ہو۔”
اس رات کے بعد احمر بار بار اُس بستی میں آنے لگا۔
کبھی تصویریں بناتا، کبھی فریال سے باتیں کرتا۔
اُسے محسوس ہونے لگا کہ یہ لڑکی کوڑا نہیں، زندگی کے بکھرے ہوئے سچ چُن رہی ہے۔
مگر ایک دن جب وہ وہاں پہنچا تو فریال اپنی جھونپڑی میں بیمار پڑی تھی۔ چہرہ زرد، آواز کمزور، اور سانسیں بوجھل تھیں۔
احمر نے پریشانی سے پوچھا:
“یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے؟”
فریال ہلکا سا مسکرائی۔
“غریب لوگ بیمار نہیں ہوتے صاحب…
بس آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں۔”
احمر کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے جلدی سے اپنی بنائی ہوئی تصویر اُس کے سامنے رکھی۔
تصویر میں فریال چاندنی میں کھڑی تھی۔
آنکھوں میں خاموش دعا، چہرے پر اداس روشنی۔
نیچے عنوان لکھا تھا:
“چاندنی کا داغ”
فریال نے تصویر کو دیر تک دیکھا، پھر کمزور ہنسی کے ساتھ بولی:
“یہ میں نہیں ہوں صاحب…
یہ تو چاندنی ہے، جو میری گندگی میں کھو گئی۔”
“نہیں فریال،” احمر نے آہستہ سے کہا،
“یہ تم ہو…
تم نے مٹی میں رہ کر بھی روشنی پیدا کی ہے۔”
فریال نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا:
“اگر کبھی یہ تصویر بک جائے…
تو اُس کے پیسوں سے کسی غریب لڑکی کو کتاب خرید دینا…
تاکہ وہ کوڑا نہ چُنے… خواب چُن لے…”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
کھڑکی سے چاندنی اندر اتر رہی تھی۔
اور پھر… فریال کی سانس آہستہ آہستہ تھم گئی۔
احمر ساکت بیٹھا رہا۔
جیسے اُس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہو۔
کچھ ہفتوں بعد شہر کی سب سے بڑی آرٹ گیلری میں احمر نقوی کی نمائش ہوئی۔
لوگ دور دور سے آئے۔ تصویریں دیکھیں، تعریفیں کیں۔
مگر سب سے زیادہ بھیڑ ایک تصویر کے سامنے تھی۔
“چاندنی اور کوڑا چننے والی لڑکی”
وہ تصویر پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔
لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔
کسی نے کہا:
“کیا روحانی کیفیت ہے!”
دوسرے نے کہا:
“غریب کے چہرے میں حسن دکھا دینا واقعی کمالِ فن ہے!”
احمر خاموش کھڑا تھا۔
اتنے شور کے باوجود اُس کے اندر عجیب سا سنّاٹا تھا۔
اچانک اُس کی نظر شیشے پر پڑی جہاں چاندنی کا عکس لرز رہا تھا۔
اور اُسے یوں محسوس ہوا جیسے ہوا میں کوئی سرگوشی گونجی ہو:
“صاحب… میں کہتی تھی نا؟
چاند کبھی کوڑا نہیں چُنتا…
مگر سب اُس کی روشنی لے جاتے ہیں…”
احمر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر دھیرے سے بولا:
“ہاں فریال…
روشنی بیچنے والے کبھی نہیں جانتے کہ اندھیرا کتنا مہنگا ہوتا ہے…”
Comments