ادھوری محبت خاموش لفظوں کی کہانی۔ رضا ابرار ندوی
رات کی خاموشی آہستہ آہستہ شہر پر اتر رہی تھی۔ دور کہیں اذان کی مدھم سی آواز فضا میں گھل رہی تھی، اور ہوا میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ علی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، ہاتھ میں وہی پرانا خط، جس کے کنارے اب مڑ چکے تھے۔ یہ خط صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں تھا… یہ اس کی پوری کہانی تھی۔
وہ آہستہ سے بولا، "عائشہ… تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میں نے تمہیں چھوڑا تھا… اپنی یادوں میں۔"
یہ کہانی کئی سال پہلے شروع ہوئی تھی…
کالج کا پہلا دن، نئی کتابیں، نئے چہرے، اور نئی امیدیں۔ علی ایک سادہ سا لڑکا تھا، جو اپنے خوابوں میں کھویا رہتا تھا۔ اسے ہجوم پسند نہیں تھا، اس لیے وہ اکثر لائبریری کے کونے میں بیٹھ کر کتابوں میں خود کو چھپا لیتا۔
ایک دن، جب وہ ایک کتاب تلاش کر رہا تھا، اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی۔ سفید دوپٹہ، جھکی ہوئی نظریں، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔ وہ عائشہ تھی۔
علی نے خود سے کہا، "یہ لڑکی… باقی سب سے مختلف کیوں لگتی ہے؟"
کچھ دنوں تک وہ صرف دور سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر ایک دن قسمت نے دونوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔
"یہ کتاب… آپ لے رہے ہیں؟" عائشہ نے آہستہ سے پوچھا۔
علی نے چونک کر دیکھا، "جی… ہاں… لیکن آپ چاہیں تو پہلے لے لیں۔"
عائشہ مسکرائی، "نہیں، آپ پڑھ لیجیے۔ ویسے بھی، مجھے زیادہ انتظار کی عادت ہے۔"
یہ ایک عام سا جملہ تھا، مگر علی کے دل میں کہیں گہرائی تک اتر گیا۔
وقت گزرتا گیا، اور دونوں کے درمیان بات چیت بڑھنے لگی۔
ایک دن عائشہ نے پوچھا، "علی، تم ہمیشہ اتنے خاموش کیوں رہتے ہو؟"
علی نے مسکرا کر جواب دیا، "کیونکہ میں جو کہنا چاہتا ہوں، وہ الفاظ میں نہیں آتا۔"
عائشہ ہلکے سے ہنسی، "یا شاید تم کہنا ہی نہیں چاہتے۔"
علی نے دل میں سوچا، "کاش تم جان پاتی…"
دونوں کے درمیان ایک انجانا رشتہ بن چکا تھا۔ وہ ساتھ بیٹھتے، ساتھ پڑھتے، کبھی کبھی ہنستے بھی…مگر کچھ باتیں ہمیشہ ادھوری رہ جاتی ہیں۔
ایک شام، جب کالج کا صحن خالی ہو رہا تھا، عائشہ نے کہا: "علی، اگر میں ایک دن اچانک چلی جاؤں تو… تمہیں یاد آئے گی؟"
علی نے فوراً کہا، "تم ایسی بات کیوں کر رہی ہو؟"
"بس ویسے ہی… جواب دو۔"
علی نے نظریں جھکا لیں، "کچھ لوگ یاد نہیں کیے جاتے… وہ کبھی بھولے ہی نہیں جاتے۔"
عائشہ خاموش ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی آ گئی تھی۔
پھر وہ دن آیا، جس نے سب کچھ بدل دیا۔
عائشہ نے دھیرے سے کہا، "علی… میری شادی طے ہو گئی ہے۔"
یہ سن کر علی کے دل میں جیسے کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔
"مبارک ہو…" اس نے بمشکل کہا۔
"بس؟" عائشہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"اور کیا کہوں؟ تم خوش رہو، یہی کافی ہے۔"
عائشہ نے تلخی سے کہا، "کبھی کبھی لگتا ہے تم پتھر ہو… کچھ محسوس ہی نہیں کرتے۔"
علی نے ہلکی آواز میں کہا، "اگر میں سب کچھ محسوس کرنے لگوں… تو شاید سنبھل نہ سکوں۔"
آخری دن، کالج کی سیڑھیوں پر دونوں ایک بار پھر ساتھ بیٹھے تھے۔
عائشہ نے کہا، "علی، ایک سوال پوچھوں؟"
"ہاں، پوچھو۔"
"اگر میں کہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے… تو تم کیا کرو گے؟"
علی چونک گیا، اس کے الفاظ گلے میں اٹک گئے۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا، "اب یہ کہنے کا کیا فائدہ؟"
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، "فائدہ؟ محبت فائدہ نہیں دیکھتی، علی!"
علی نے نظریں جھکا لیں، "مگر وقت دیکھتی ہے… اور ہمارا وقت گزر چکا ہے۔"
عائشہ نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا، "یہ رکھ لو… شاید اس میں وہ سب کچھ ہے جو تم کبھی سن نہیں سکے۔"
اور پھر وہ چلی گئی…
ہمیشہ کے لیے۔
علی دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے لفافہ کھولا۔
"علی،
میں نے ہمیشہ تمہاری خاموشی میں محبت سنی ہے۔ کچھ خاموشیاں ہمیشہ کے لۓ سب کچھ چھین لیتی ہیں۔ اگر تم ایک بار بھی مجھے روک لیتے، تو شاید میں رک جاتی۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
ہماری کہانی ادھوری ہی سہی… مگر سچی تھی۔
— عائشہ"
علی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، "میں نے تمہیں کبھی کھویا ہی نہیں… کیونکہ تم کبھی میری تھیں ہی نہیں۔"
سال گزر گئے…
آج بھی جب بارش ہوتی ہے، علی کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر وہی خط پڑھتا ہے۔
کبھی خود سے کہتا ہے: "محبت کہہ دینی چاہیے تھی… کیونکہ کچھ خاموشیاں ہمیشہ کے لیے سب کچھ چھین لیتی ہیں۔"
یہی ادھوری محبت کی سچائی ہے—
کہ یہ ختم نہیں ہوتی…
بس دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
Comments